Thursday, 10 November 2016

آنکھوں سے وہ کبھی میری اوجھل نہیں رہا

 آنکھوں سے وہ کبھی میری اوجھل نہیں رہا

غافل میں اس کی یاد سے اک پل نہیں رہا

کیا ہے جو اس نے دور بسا لی ہیں بستیاں

آخر مِرا دماغ بھی اول نہیں رہا

لاؤ تو سرِ دہر کے مفہوم کی خبر

عقدہ اگرچہ کوئی بھی مہمل نہیں رہا

شاید نہ پا سکوں میں سراغِ دیارِ شوق

قبلہ درست کرنے کا کَس بل نہیں رہا

دشتِ فنا میں دیکھا مساوات کا عروج

اشرف نہیں رہا کوئی اَسفل نہیں رہا

ہے جس کا تخت سجدہ گہِ خاص و عام شہر

میں اس سے ملنے کیلئے بے کل نہیں رہا

جس دم جہاں سے ڈولتی ڈولی ہی اٹھ گئی

طبل و علم  تو کیا کوئی منڈل نہیں رہا


سعادت سعید

No comments:

Post a Comment