آنکھوں سے وہ کبھی میری اوجھل نہیں رہا
غافل میں اس کی یاد سے اک پل نہیں رہا
کیا ہے جو اس نے دور بسا لی ہیں بستیاں
آخر مِرا دماغ بھی اول نہیں رہا
لاؤ تو سرِ دہر کے مفہوم کی خبر
عقدہ اگرچہ کوئی بھی مہمل نہیں رہا
شاید نہ پا سکوں میں سراغِ دیارِ شوق
قبلہ درست کرنے کا کَس بل نہیں رہا
دشتِ فنا میں دیکھا مساوات کا عروج
اشرف نہیں رہا کوئی اَسفل نہیں رہا
ہے جس کا تخت سجدہ گہِ خاص و عام شہر
میں اس سے ملنے کیلئے بے کل نہیں رہا
جس دم جہاں سے ڈولتی ڈولی ہی اٹھ گئی
طبل و علم تو کیا کوئی منڈل نہیں رہا
سعادت سعید
No comments:
Post a Comment