Thursday, 10 November 2016

میرے سائے کی طرح مجھ سے جو پیوستہ ہے

میرے سائے کی طرح مجھ سے جو پیوستہ ہے
وہ بھی اغماض برتنے پہ کمر بستہ ہے
وصل تنہائی نے آئینہ دکھایا تو کھلا
میرے ہاتھوں میں کسی اور کا گلدستہ ہے
دل کشا جس کا تبسم ہے، شگفتہ ہے جمال 
وائے اے شومئ قسمت کہ وہ دل بستہ ہے
عیشِ دوراں نے بدن خیز ترنگیں بخشیں
طائرِ نخلِ گماں پھر بھی بہت خستہ ہے
ہم سفر ہے مِرا آغازِ سفر کا نقطہ
ختم ہوتا ہی نہیں سِحر زدہ رستہ ہے
شاعر فکرِ یگانہ کے مظاہر کا فسوں
گلشنِ خواب کی بیداری سے وابستہ ہے

سعادت سعید

No comments:

Post a Comment