میرے سائے کی طرح مجھ سے جو پیوستہ ہے
وہ بھی اغماض برتنے پہ کمر بستہ ہے
وصل تنہائی نے آئینہ دکھایا تو کھلا
میرے ہاتھوں میں کسی اور کا گلدستہ ہے
دل کشا جس کا تبسم ہے، شگفتہ ہے جمال
عیشِ دوراں نے بدن خیز ترنگیں بخشیں
طائرِ نخلِ گماں پھر بھی بہت خستہ ہے
ہم سفر ہے مِرا آغازِ سفر کا نقطہ
ختم ہوتا ہی نہیں سِحر زدہ رستہ ہے
شاعر فکرِ یگانہ کے مظاہر کا فسوں
گلشنِ خواب کی بیداری سے وابستہ ہے
سعادت سعید
No comments:
Post a Comment