Thursday, 6 May 2021

دل کی بساط کیا تھی جو صرف فغاں رہا

دل کی بساط کیا تھی جو صرف فغاں رہا

گھر میں ذرا سی آگ کا کتنا دھواں رہا

شب بھر خیال گیسوئے عنبر فشاں رہا

مہکا ہوا شمیم سے سارا مکاں رہا

کیا کیا نہ کاوشوں پہ مِری آسماں رہا

بجلی گرائی مجھ پہ نہ جب آشیاں رہا

محشر بھی کوئی درد ہے جو اٹھ کے رہ گیا

شکوہ بھی کوئی غم ہے جو دل میں نہاں رہا

خورشید آسماں پہ رہا تو زمیں پہ ہے

میزان حسن میں تِرا پلہ گراں رہا

جینے میں کیا مزا جو نہیں موت کا یقیں

مرنے میں لطف کیا ہے جو وہ بدگماں رہا

کثرت حجاب دیدۂ عارف کبھی نہیں

ذروں میں ایک مہر کا جلوہ عیاں رہا

بیمار ہجر موت سے اٹھ کر لپٹ گیا

وعدہ پہ آیا جب کوئی تیرا گماں رہا

دل بھی گیا جگر بھی گیا جان بھی گئی

میں پھر بھی دیکھتا ہی تِری شوخیاں رہا

اے شعلہ کیا طبیعت نازک پہ زور دوں

قدر سخن رہی نہ کوئی قدرداں رہا


شعلہ علیگڑھی

منشی بنواری لال شعلہ علی گڑھ

No comments:

Post a Comment