Friday, 21 May 2021

وقت کے الجھے الجھے دھاگے

 وقت کے الجھے الجھے دھاگے

جب دل توڑ کے چل دیں گے

پگڈنڈی پر پیلے پتے تم کو تنہا دیکھیں گے

پیڑوں کے سینے پر لکھے نام بھی ہو جائیں تحلیل

اور ہوا بھی سمت کو اپنی کر جائے تبدیل

بھینی بھینی خُوشبو ہم کو ہر اک گام پکارے گی

کر کے یخ بستہ جب ہم کو برف اس پار سدھارے گی

دھوپ صداؤں کے سِکے

جب کانوں میں کھنکائے گی

گرجا گھر کی اونچی بُرجی

چاند کا چہرہ چُومے گی

بارش مُسکانوں کے موتی پتھر پر جب پھوڑے گی

اور برستی بوندوں کے دھاروں پر دھارے جوڑے گی

گرم گرم انگاروں جیسی آنسو آنکھ سے اُبلیں گے

دل کےارماں اک مُدت کے بعد تڑپ کر نکلیں گے

جب احساس کی دنیا میں پھر اور نہ گُھنگھرو چھنکیں گے

صرف خموشی گُونجے گی تب

آنے والے موسم کی

کھڑکی پر دستک بھی نہ ہو گی

کوئی سُریلی رِم جھم کی

شام کے سناٹے میں بدن پر

کوٹ تمہارا جھولے گا

یادوں کا لمس ٹٹولے گا

گھور اُداسی چھُو لے گا

اونچی اونچی باتوں سے تم خاموشی میں شور کرو گے

گیت پرانے سن کر ٹھنڈی سانسیں بھر کر بور کرو گے

اس پل شب کی تنہائی میں

اپنے دل کو شاد کرو گے

بولو، مجھ کو یاد کرو گے


فرزانہ نیناں

No comments:

Post a Comment