Friday, 21 May 2021

ہیں شاخ شاخ پریشاں تمام گھر میرے

 ہیں شاخ شاخ پریشاں تمام گھر میرے

کٹے پڑے ہیں بڑی دور تک شجر میرے

چراغ ان پہ جلے تھے بہت ہوا کے خلاف

بجھے بجھے ہیں جبھی آج بام و در میرے

ہزاروں سال کی تاریخ لکھی جائے گی

زمیں کے بطن سے ابھریں گے جب کھنڈر میرے

یہ دیکھنا ہے کہ اب ہار مانتا ہے کون

ادھر ہے وسعت امکاں ادھر ہیں پر میرے

میں اپنی ذات کی تعبیر کی تلاش میں تھا

تو میرے خواب چلے بن کے ہم سفر میرے

سراغ موسم گل کے امین کی صورت

کھلے ہوئے ہیں خزاں میں بھی زخم سر میرے


احمد صغیر

No comments:

Post a Comment