Friday, 21 May 2021

ذرا سکون بھی صحرا کے پیار نے نہ دیا

 ذرا سکون بھی صحرا کے پیار نے نہ دیا

مسافروں کو ہوا نے پکارنے نہ دیا

تجھے بھی دے نہ سکے چین وہ گلاب کے پھول

مجھے بھی اذنِ تبسم بہار نے نہ دیا

نہ جانے کتنے مراحل کے بعد پایا تھا

وہ ایک لمحہ جو تُو نے گزارنے نہ دیا

کہاں گئے وہ جو آباد تھے خرابے میں

پتا کسی کا دل بے قرار نے نہ دیا

میں آپ اپنے لیے دشمنوں سے بڑھ کر تھا

ضیا یہ دل تھا مِرا جس نے ہارنے نہ دیا


احمد ضیا

No comments:

Post a Comment