Wednesday, 12 May 2021

اک ہرے خط میں کوئی بات پرانی پڑھنا

 اک ہرے خط میں کوئی بات پرانی پڑھنا

کتنا مشکل ہے کسی آنکھ کا پانی پڑھنا

کچھ نہ کچھ سوچنا بس سوچنا یوں ہی دن بھر

اور پھر رات میں پریوں کی کہانی پڑھنا

ایک ہی چہرے کی بوچھار ہے قصہ اپنا

میری آنکھوں سے اسے دشمن جانی پڑھنا

کود جانا تری یادوں کے سمندر میں پھر

ڈوبتے ڈوبتے موجوں کی روانی پڑھنا

آخری بار مجھے دیکھنا جاتے جاتے

سوکھی آنکھوں سے مرا سیل معانی پڑھنا

میں نے اک دور کا ساون ہے کیا نظم یہاں

تو کبھی آ کے مری آنکھوں کا پانی پڑھنا


دنیش نائیڈو

No comments:

Post a Comment