Sunday, 16 May 2021

ہر شے آنی جانی ہے جیون بہتا پانی ہے

 ہر شے آنی جانی ہے

جیون بہتا پانی ہے

ہجر کی راتیں وصل کے دن

اک دلچسپ کہانی ہے

حسن ہے فانی، عشق مِرا

ان مِٹ ہے، لا فانی ہے

جو نا اہل ہے ان ہاتھوں میں

پھولوں کی نگرانی ہے

رہتے ایک گلی میں ہیں

دونوں کو حیرانی ہے

سب چلتے ہیں ڈگر ڈگر

ایک ڈگر انجانی ہے

اپنا ہے پھر اپنا لہو

پانی آخر پانی ہے

انجم تیری غزلوں میں

سچے پیار کی بانی ہے


آنند سروپ انجم 

No comments:

Post a Comment