Sunday, 16 May 2021

ہر روز ہی دن بھر کے جھمیلوں سے نمٹ کے

 ہر روز ہی دن بھر کے جھمیلوں سے نمٹ کے

رو لیتے ہیں ہم رات کے آنچل سے لپٹ کے

ہم کون ہیں کیوں بیٹھے ہیں یوں راہگزر پر

پوچھا نہ کسی اک بھی مسافر نے پلٹ کے

کیا کیا تھے مِرے دل کے صحیفے میں مضامیں

دیکھے نہ کسی نے مِرے اوراق الٹ کے

پھرتے رہے آوارہ خیالات کی صورت

کیا چیز تھی ہم جس کے لیے دہر میں بھٹکے

شب کروٹیں لیتے تو نہ گزرے کبھی منذر

سو جاؤ میاں درد کی باہوں میں سمٹ کے


بشیر منذر

No comments:

Post a Comment