Sunday, 16 May 2021

تمہارے ساتھ چلنا اور چلتے ہی چلے جانا

 تمہارے ساتھ چلنا

اور، چلتے ہی چلے جانا

کسی آرام سے کوئی غرض کب تھی

طلب کا دائرہ

جو کہ محیط ارض و انجم تھا

سمٹ کر صرف تم ٹھہرا

تمہارا ساتھ سرشاری

تمہارا ہو کے جینا

اور، مر جانا

خماری ہی خماری تھا

مگر یہ سب تو رستہ تھا

اور رستہ بھی کچھ ایسا

جس کی منزل ہی جدائی ہے

مجھے دیکھو

میں منزل پر کھڑی ہوں

گرد پلکوں پر

ادھورے خواب آنچل میں چھپائے

تمہاری یاد کو دل سے لگائے

مجھے دیکھو

تمہارے ساتھ کے خوابوں کی

کیا تعبیر پائی ہے

یہ عمروں کی مسافت کے محاصل ہیں

ادھوری میں، ادھورے خواب ہیں

ابدی جدائی ہے

جو میری

کل کمائی ہے


کنول حسین

No comments:

Post a Comment