Sunday, 19 September 2021

مرے چاند رک مری بات سن مرے رتجگوں کا حساب کر

 مِرے چاند رک مِری بات سن مِرے رتجگوں کا حساب کر

تِرے نام کی ہیں جو ساعتیں انہیں پڑھ ذرا انہیں باب کر

یہ مِرے شکوک و وسوسے مِری جاں پہ دوہرا عذاب ہیں

انہیں ڈالنا ہے پسِ شجر، مِرا ساتھ دے نئی بات کر

‏کوئی وقت تھا تیرے روبرو میری گفتگو کے تھے سلسلے

مِری عمر کے اس دور کو اسی چاندنی سے سیراب کر

تھے جو لطف راز و نیاز میں کسی نرم سرد سی رات میں

نہ بُھلا سکا دلِ مبتلا انہیں روند کر نا سحاب کر

‏وہی رونقیں وہی شوخیاں یہ فریب کیسا دیا مجھے

تِرے آنسوؤں سے لکھی تھی جو مجھے تحفتاً وہ کتاب کر

نہ مجھے پڑھا وہ حکایتیں ہیں عزیز جو بھی روایتیں

سرِ دل پہ جو بھی رقم ہوا، وہی چاہتوں کا نصاب کر


سلمیٰ سید

No comments:

Post a Comment