Sunday, 19 September 2021

جو ہم پہ گزرتی ہے دنیا نہ سمجھ پائی

 جو ہم پہ گزرتی ہے، دنیا نہ سمجھ پائی

ہم خود ہی تماشا ہیں اور خود ہی تماشائی

وہ لوگ بھی شامل تھے، کل میری تباہی میں 

جو میرے شناسا تھے، جو تھے مِرے شیدائی

مظلوم کے غم پر جو افسوس نہیں کرتے 

وہ لوگ ہی کرتے ہیں ظالم کی  پذیرائی

سورج کی شعائیں بھی کچھ کام نہ آئیں گی

روشن ہے اندھیروں سے ایسی میری انگنائی

اک بار ہمیں تیرا دیدار جو ہو جائے

افسوس نہیں ہو گا، چھن جائے جو بینائی

دنیائے محبت کا دستور نرالا ہے 

سناٹوں میں آوازیں، اور بھیڑ میں تنہائی

اغیار کی محفل میں جانا نہ کبھی انجم 

تعریف کے پردے میں ہو گی تِری رسوائی


شاداب انجم

No comments:

Post a Comment