Monday, 22 November 2021

پل بھر کو جس میں چین نہ آئے چھوڑ دو اس کاشانے کو

 پل بھر کو جس میں چین نہ آئے چھوڑ دو اس کاشانے کو

گلشن ہی جب کہ راس نہیں آباد کرو ویرانے کو

ہجر کی رات تھی اتنی لمبی کاٹے سے ناں کٹتی تھی

غم کی جوت جگائی میں نے اس دل کے بہلانے کو

کیا کیا نعمت بخشی ہے اس پیارے نے یہ مت پوچھو

درد دیا کچھ داغ دئیے اور اشک دئیے پی جانے کو

کوئی تو تعبیر بتائے خواب اک میں نے دیکھا ہے

مسجد کو سب رند چلے اور شیخ چلے مے خانے کو

آندھی اور طوفان بھی اس کو روک سکے نہ راہوں میں

دور سے آیا ہے پروانہ شمع ہی پر مٹ جانے کو

اونچی نیچی ترچھی ٹیڑھی سب راہیں جو دیکھ چکا

کون آ کر سمجھائے گا اب اس راجسؔ دیوانے کو


بوٹا خان راجس

No comments:

Post a Comment