Monday, 22 November 2021

نکلے سفر کو پیدل وہ چار ہم سفر تھے

 چار مسافر


نکلے سفر کو پیدل وہ چار ہم سفر تھے 

سب اپنے راستے اور منزل سے باخبر تھے 

اک فلسفی تھا ان میں دوسرا تھا نائی 

پھر تیسرا سپاہی گنجا تھا جس کا بھائی 

جنگل میں رات آئی لازم تھا ان کو سونا 

لے کر چلے تھے اپنے وہ اوڑھنا بچھونا 

سوئے کچھ اس طرح وہ اس میں ہوشیاری 

ہر ایک کا تھا پہرہ دو گھنٹے باری باری 

پہلے سپاہی جاگا پھر آدھی رات آئی 

وہ سو گیا تو پہرہ دینے لگا تھا نائی 

لمبے تھے اور گھنے تھے جو بال اس کے سر پر 

نائی نے مونڈ ڈالے تیز استرا پھیر کر 

بیدار فلسفی کو کر کے یہ بولا نائی 

باری اب آپ کی ہے اٹھ جاؤ میرے بھائی 

جب ہاتھ فلسفی نے چندیا پہ اپنی پھیرا 

آپے سے ہو کے باہر نائی کو اس نے گھیرا 

یہ کیا غضب کیا ہے ناحق اسے اٹھایا 

باری تھی فلسفی کی گنجے کو کیوں جگایا 


آفاق صدیقی

No comments:

Post a Comment