Wednesday, 17 November 2021

حسن جب بے نقاب ہوتا ہے

 حسن جب بے نقاب ہوتا ہے

دل کا خانہ خراب ہوتا ہے

کیسے فرقت کا مارا زندہ رہے

اس کا جینا عذاب ہوتا ہے

اس کے گالوں کی سرخی کیا کہنا

جیسے تازہ گلاب ہوتا ہے

جو ہو خوشبو مثال دنیا میں

"وہ مِرا انتخاب ہوتا ہے"

دورِ حاضر کی ہے یہ جادوگری

چور عزت مآب ہوتا ہے

آپ کیا جانیں ہے محبت کیا

خون دل کا جناب ہوتا ہے

خون انصاف کو ہو گر شہزاد

بس وہاں انقلاب ہوتا ہے


ضیا شہزاد

No comments:

Post a Comment