حسن جب بے نقاب ہوتا ہے
دل کا خانہ خراب ہوتا ہے
کیسے فرقت کا مارا زندہ رہے
اس کا جینا عذاب ہوتا ہے
اس کے گالوں کی سرخی کیا کہنا
جیسے تازہ گلاب ہوتا ہے
جو ہو خوشبو مثال دنیا میں
"وہ مِرا انتخاب ہوتا ہے"
دورِ حاضر کی ہے یہ جادوگری
چور عزت مآب ہوتا ہے
آپ کیا جانیں ہے محبت کیا
خون دل کا جناب ہوتا ہے
خون انصاف کو ہو گر شہزاد
بس وہاں انقلاب ہوتا ہے
ضیا شہزاد
No comments:
Post a Comment