کاش
کاش تم قلم ہوتے
سادہ ورق ہوتی میں
کاش ہوتے تم آندھی
خشک پتہ ہوتی میں
بے سبب بھی ہوتا کچھ
بے سبب بنا موسم
کچھ ہوا نہیں لیکن
کاش بادلوں کے در
بے سبب بھی وا ہوتے
بے فصل کا گل
ہم تم بے وجہ صبا ہوتے
کاش میرے سجدوں کے
تم ہی بس خدا ہوتے
کاش تم خدا ہوتے
میرا آئینہ ہوتے
پر نہ تم سمندر ہو
نہ میں لہر ہو پائی
نہ خدا ہوئے تم بھی
کب میں سجدہ ہو پائی
عذرا پروین
No comments:
Post a Comment