Monday, 15 November 2021

کاش تم قلم ہوتے

 کاش


کاش تم قلم ہوتے

سادہ ورق ہوتی میں

کاش ہوتے تم آندھی

خشک پتہ ہوتی میں

بے سبب بھی ہوتا کچھ

بے سبب بنا موسم 

کچھ ہوا نہیں لیکن

کاش بادلوں کے در

بے سبب بھی وا ہوتے

بے فصل کا گل 

ہم تم بے وجہ صبا ہوتے

کاش میرے سجدوں کے 

تم ہی بس خدا ہوتے

کاش تم خدا ہوتے

میرا آئینہ ہوتے

پر نہ تم سمندر ہو

نہ میں لہر ہو پائی

نہ خدا ہوئے تم بھی

کب میں سجدہ ہو پائی


عذرا پروین

No comments:

Post a Comment