Monday, 15 November 2021

مل کے بیٹھیں تو ہم کہیں پہلے

 مل کے بیٹھیں تو ہم کہیں پہلے

بانٹ لیتے ہیں کیوں زمیں پہلے

ہو گا تیرا بھی اعتبار مجھے

کر لوں اپنا میں گر یقیں پہلے

کیوں کسی در پہ آسماں جھکتا

گر نہ جھکتی مِری جبیں پہلے

دل میں شاید ابھی بھی ہے موجود

آؤ، ڈھونڈیں اسے یہیں پہلے

کب یہ سنتے ہیں داستاں پوری

بول اٹھتے ہیں نکتہ چیں پہلے

سوچتا ہوں میں سن کے بات تری

کیوں یہ میں نے کہی نہیں پہلے


فروغ زیدی

No comments:

Post a Comment