جہاں پر چوٹ لگتی ہے زیادہ
وہاں امید پھلتی ہے زیادہ
یہ دل جب چاک ہو جاتا ہے غم سے
مجھے تسکین ملتی ہے زیادہ
گھنا جب پیڑ کٹ جائے زمیں سے
وہاں پر دھوپ پلتی ہے زیادہ
دھواں دیتی ہے جب لکڑی ہو گیلی
اگر سوکھی ہو جلتی ہے زیادہ
نہ یوں تم بے رخی سے پیش آنا
ہماری عمر ڈھلتی ہے زیادہ
چھپانے جب کبھی ہوں اشک رضیہ
تو پھر وہ آنکھ ملتی ہے زیادہ
رضیہ سبحان
No comments:
Post a Comment