ہزاروں غم ہیں پھر بھی غم نہیں ہے
ہمارا حوصلہ کچھ کم نہیں ہے
سفر ہے، رات ہے، منزل ہے غائب
چراغِ دل مگر مدھم نہیں ہے
اسی کی بات پر قائم سبھی ہیں
جو اپنے قول میں محکم نہیں ہے
وہ ہے کس درجہ غمگیں زندگی میں
خوشی کے ساتھ جس کو غم نہیں ہے
جلے دل کی ہے راکھ اس کو نہ چھیڑو
کہ اس میں آگ ہے، شبنم نہیں ہے
عجب الجھاؤ ہے یہ زیست انجم
کوئی آسان پیچ و خم نہیں ہے
مشتاق انجم
No comments:
Post a Comment