Wednesday, 10 November 2021

ہزاروں غم ہیں پھر بھی غم نہیں ہے

 ہزاروں غم ہیں پھر بھی غم نہیں ہے

ہمارا حوصلہ کچھ کم نہیں ہے

سفر ہے، رات ہے، منزل ہے غائب

چراغِ دل مگر مدھم نہیں ہے

اسی کی بات پر قائم سبھی ہیں

جو اپنے قول میں محکم نہیں ہے

وہ ہے کس درجہ غمگیں زندگی میں

خوشی کے ساتھ جس کو غم نہیں ہے

جلے دل کی ہے راکھ اس کو نہ چھیڑو

کہ اس میں آگ ہے، شبنم نہیں ہے

عجب الجھاؤ ہے یہ زیست انجم

کوئی آسان پیچ و خم نہیں ہے


مشتاق انجم

No comments:

Post a Comment