Tuesday, 9 November 2021

گر در حرف صداقت یہ نہیں تھا پھر کیوں

 گر در حرفِ صداقت یہ نہیں تھا پھر کیوں

تم نے تالا مِرے ہونٹوں پہ لگایا پھر کیوں

لب پہ لفظوں کے کنول تم نے سجائے تھے اگر

تو تکلم کے جزیروں سے کنارہ پھر کیوں

مانا قیدی سے حکومت نہ ڈرے گی، لیکن

شاہراہوں پہ سلاسل کا تماشہ پھر کیوں

چیخ اٹھو گے جو دیکھیں مِری بنجر آنکھیں

شوق اتنا تھا تو دریا کو اتارا پھر کیوں

تم اگر موردِ الزام نہیں تھے تو تمہیں

اس عدالت نے گنہ گار بنایا پھر کیوں

مصلحت کوئی تو درپیش تھی شارب ورنہ

اس نے تصویر پر یہ رنگ ابھارا پھر کیوں


شارب مورانوی

No comments:

Post a Comment