Tuesday, 9 November 2021

لوگ ڈھولک کی تھاپ پر ناچے

 لوگ ڈھولک کی تھاپ پر ناچے

مست گھوڑوں کی ٹاپ پر ناچے

ہم تِرے عشق کے مجاور تھے

تیرے قدموں کی چاپ پر ناچے

کچھ کو مزدوریاں نگلتی گئیں

اور کچھ صرف باپ پر ناچے

تیری تقسیم پر رہے خاموش

ہاں تِرے تول ناپ پر ناچے

خاک اڑتی رہی سدا اپنی

عمر بھر اپنے آپ پر ناچے

حبس ٹوٹا تو دل کے سب ارماں

دھڑکنوں کے الاپ پر ناچے

ایک درویش میرے اندر کا

دلِ مضطر کی تھاپ پر ناچے

وقت گزرا ہے اس طرح سے ہما

دھوپ سے بنتی بھاپ پر ناچے


ہما شاہ

No comments:

Post a Comment