لوگ ڈھولک کی تھاپ پر ناچے
مست گھوڑوں کی ٹاپ پر ناچے
ہم تِرے عشق کے مجاور تھے
تیرے قدموں کی چاپ پر ناچے
کچھ کو مزدوریاں نگلتی گئیں
اور کچھ صرف باپ پر ناچے
تیری تقسیم پر رہے خاموش
ہاں تِرے تول ناپ پر ناچے
خاک اڑتی رہی سدا اپنی
عمر بھر اپنے آپ پر ناچے
حبس ٹوٹا تو دل کے سب ارماں
دھڑکنوں کے الاپ پر ناچے
ایک درویش میرے اندر کا
دلِ مضطر کی تھاپ پر ناچے
وقت گزرا ہے اس طرح سے ہما
دھوپ سے بنتی بھاپ پر ناچے
ہما شاہ
No comments:
Post a Comment