Tuesday, 9 November 2021

کبھی ملو گے تو میں بتاؤں

 کبھی ملو گے، تو میں بتاؤں


وہ جِس کو تم نے یوں رہگزر پہ ہی

چلتے چلتے جدا کیا تھا

مِری محبت مِری وفاوں کا کتنا

اچھا صلہ دیا تھا

وہ غم کے سانچے میں ڈھل چکا ہے

تمہارے بن اب وہ جی رہا ہے

نہ مر رہا ہے

کبھی ملو گے، تو میں بتاؤں

وہ اپنے وعدوں کا کیا ہوا ہے

محبتوں میں تمہارے پختہ

جو تھے ارادوں کا کیا ہوا ہے

پُرانی رسموں کا کیا بنا ہے

تمہاری قسموں کا کیا بنا ہے

کبھی ملو گے، تو میں بتاؤں

میں تم کو یکسر بُھلا چُکا ہوں

میں کتنے ساون بِتا چُکا ہوں

میں دل سے چاہت مِٹا چُکا ہوں

تمہاری دنیا سے جا چکا ہوں

کبھی ملو گے، تو میں بتاؤں

یہ جھوٹ بولا کہ جی رہا ہوں

میں چاکِ ہستی کو سِی رہا ہوں

ہے جسم زندہ پہ جاں نہیں ہے

تمہارے بِن اب

کہیں بھی جائے اماں نہیں ہے

کبھی ملو گے، تو میں بتاؤں


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment