Tuesday, 9 November 2021

بندگی کا وہ کسی کو جو صلہ دیتے ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


بندگی کا وہؐ کسی کو جو صِلا دیتے ہیں

ذرۂ خاک سے خورشید بنا دیتے ہیں

جو ہو انؐ کے غلاموں کے غلاموں کا غلام

مرتبہ اس کا زمانے میں بڑھا دیتے ہیں

مجھ کو اس وقت دو عالم کا سکوں ملتا ہے

دھڑکنیں جب وہ مِرے دل کی جگا دیتے ہیں

جس کے اشکوں پر نگہِ لطف و کرم پڑ جائے

اس کو پھر گنبدِ خضرا بھی دکھا دیتے ہیں

اس سے بڑھ کر نہیں خوش بخت جہاں میں کوئی

جس کو از راہِ کرم خاکِ کفِ پا دیتے ہیں

انؐ کی رحمت کا تو اندازہ ہی کرنا ہے محال

دشمنِ جاں کو بھی جو دل سے دعا دیتے ہیں

کر سکا میں ہی نہ اظہارِ تمنا، ورنہ

مانگنے والوں کو وہ حد سے سوا دیتے ہیں

دل و جاں میں ہے عجب محفلِ میلاد کا رنگ

مہرباں ہوں تو وہ یوں اپنا پتا دیتے ہیں

رات دن شہرِ نبیؐ کا ہے تصور پرواز

دِن پھر آئے جو غمِ ہجر بڑھا دیتے ہیں


الطاف پرواز

No comments:

Post a Comment