Monday, 15 November 2021

سن سادھو کوئی دھونی ایسی دے

 سن سادھو


کوئی دُھونی ایسی دے

جس کے کڑوے دُھوئیں سے

میری سانسیں جل جائیں

اتنی زور سے کھانسی آئے

میرے اندر نم اُگ آئے

یہ جو میرے چہرے پر 

گالوں سے اوپر 

کھارے پانی کی دو جھیلیں ہیں

سُوکھ گئی ہیں


زویا ممتاز

No comments:

Post a Comment