Wednesday, 10 November 2021

خود سے مت ہونا جدا کہتی رہی

 خود سے مت ہونا جدا کہتی رہی

مجھ سے لپٹی اِک صدا کہتی رہی

پھول کھو دیتے ہیں اپنی تازگی

چُھو کے مجھ کو یہ صبا کہتی رہی

بھر رہا ہے زہر مجھ میں سر بسر

میرے گاؤں کی ہوا کہتی رہی

ہو سکے تو یہ تعفن روک لو

سہمی سی نیلی فضا کہتی رہی

ڈوبنے دو جام میں سب سسکیاں

ابر کی کالی گھٹا کہتی رہی

جانے کیا کیا زہر میں پیتا رہا

جانے کیا خلقِ خدا کہتی رہی


خواجہ اشرف

کے اشرف

No comments:

Post a Comment