Wednesday, 10 November 2021

پھر پڑا بہاروں کا واسطہ گلابوں سے

 پھر پڑا بہاروں کا واسطہ گلابوں سے

مِل گیا ہے صرصر کو راستہ گلابوں سے

خار کھائے بیٹھی ہیں بلبلیں محبت سے

گُلبنوں نے کہلایا بے رِیا گلابوں سے

ہوش اڑ گئے سارے خاک بس گئی من میں

چھوڑ بیٹھے گُلبن ہیں رابطہ گلابوں سے

خواب کے وہ منظر بھی خواب ہو گئے سارے

تتلیاں چُرا لائیں رت جگا گلابوں سے

بے کنار موجوں نے کر دیا کنول سے ہے 

خاک کا گِلہ سارا برملا گلابوں سے


ایم زیڈ کنول

No comments:

Post a Comment