ریگزارِ کہکشاں میں چہل قدمی کے دوران
بہت محدود پیمانے بنا ڈالے ہیں انساں نے
خیالوں پر کڑے پہرے لگا کے
سوچنا جنت نہیں ممکن
اُدھر سے اِس طرف آؤ
تو حیرت کو بوسیدہ جسم میں ہی چھوڑتے آنا
کہ اس دنیا کے پیمانے
تمہاری سوچ کی وسعت سے باہر ہیں
قناعت کفر ہے اس جہاں میں رہنے والوں کو
وہ سارے فلسفے اور من گھڑت ساری وہ تاویلیں
جو واعظ مسندِ ارشاد سے تم کو سناتا تھا
انہیں کمرے میں رکھے کوڑا داں میں پھینکتے آنا
نہیں ہے ربط کوئی اس جہاں سے ایسے واعظوں کا
یہاں پر ریگزارِ کہکشاں کے اس طرف بھی کہکشائیں ہیں
وہاں تو تم اندھیروں میں بھٹک کر
راستہ پانے کی کوشش کو جوازِ زیست کہتے ہو
یہاں پر ریگزارِ کہکشاں میں
تو سرابِ روشنی سے باہر آنے کو
اندھیروں سے اٹی کالی گھپائیں
راستوں کی اک نشانی ہیں
یہاں پر روشنی میں نہ بھٹکنا کامیابی ہے
اُدھر سے اِس طرف آؤ
تو حیرت کو بوسیدہ جسم میں ہی چھوڑتے آنا
ہزاروں میل نوری سال دوری پر
پلک چھپکے میں جانا ہو تو حیرت بوجھ بنتی ہے
الطاف فیروز
No comments:
Post a Comment