Sunday, 21 November 2021

نہیں ہے ارے یہ بغاوت نہیں ہے

 نہیں ہے ارے یہ بغاوت نہیں ہے

ہمیں سر جھکانے کی عادت نہیں ہے

چھپائے ہوئے ہیں وہی لوگ خنجر

جو کہتے کسی سے عداوت نہیں ہے

کروں کیا پروں کا اگر ان سے مجھ کو

فلک ناپنے کی اجازت نہیں ہے

اٹھا کر گرانا، گرا کر مٹانا

ہمارے یہاں کی روایت نہیں ہے

ملا کر نگاہیں، جھکاتے جو گردن

وہی کہہ رہے ہیں محبت نہیں ہے

بہت کر لی پہلے زمانے سے ہم نے

ہمیں اب کسی سے شکایت نہیں ہے

کہو کیا کرو گے؛ گھٹاؤں کا نیرج

اگر بھیگ جانے کی چاہت نہیں ہے


نیرج گوسوامی

No comments:

Post a Comment