Monday, 15 November 2021

اگرچہ رات گہری ہے

 امکان


اگرچہ رات گہری ہے

ہر اک جانب اندھیرے کی عجب چادر

سی لپٹی ہے

عجب سی خامشی نے ہر طرف کو گھیر رکھا ہے

صدا کوئی نہیں ہے

اور یہ آنکھیں ابھی منظر بنانے کی

تگ و دو سے بھی عاری ہیں

یہ اکلاپا کسی کی جان لینے کو پیاسا ہے

فقط سوچوں کا اک اشہب

ذرا سی آن میں کتنی مسافت کاٹ لیتا ہے

اسے وحشت نہیں آتی

بظاہر وقت بھی ٹھہرا ہوا سا ہے

مگر یہ رات کا منظر

انہی پہلے سی راتوں کا تسلسل ہے

اسے بھی بیت جانا ہے

نیا منظر پرانے سب مناظر کو بدل دے گا

اندھیرے مٹ ہی جائیں گے

صدا آ کر خموشی کا فسوں سب توڑ ڈالے گی

مرا وجدان کہتا ہے

سحر کے لوٹ آنے میں ذرا سا وقت باقی ہے


عاصم بخاری

No comments:

Post a Comment