Monday, 15 November 2021

اپنی ہی لاش پہ ہیں اشک بہائے ہوئے لوگ

 اپنی ہی لاش پہ ہیں اشک بہائے ہوئے لوگ 

ہم ہیں یک طرفہ محبت کے ستائے ہوئے لوگ

میں تھا نادان نہ بس پایا جہاں میں لیکن

کیوں پریشان ہیں یہ تیرے بسائے ہوئے لوگ

توڑ دیتی ہے ہمیں سانس کی بے ترتیبی

خواہ مخواہ ہاتھوں میں پتھر ہیں اٹھائے ہوئے لوگ

خود پہ ہنستا ہوں بہت جب میں انہیں دیکھتا ہوں

بن کے بیٹھے ہیں خدا میرے بنائے ہوئے لوگ

ایسے شاگرد کہ استاد نظر آتے ہیں

اے زمانے تِرے ہاتھوں کے پڑھائے ہوئے لوگ

نشۂ تاجوری میں ہیں جو مدہوش جمیل

ان سے بہتر ہیں تِری بزم میں آئے ہوئے لوگ


صادق جمیل

No comments:

Post a Comment