خواب میں یار کا دیدار بھی ہو سکتا ہے
یعنی یہ ہجر ثمر بار بھی ہو سکتا ہے
مسکرانے میں قباحت نہیں پر دھیان رہے
آنکھ سے اشک نمودار بھی ہو سکتا ہے
مستقل عہدِ گزشتہ پہ نظر ٹھیک نہیں
اس طرح راستہ دشوار بھی ہو سکتا ہے
کھلتے رہنے سے ہی پہچان ہے دروازے کی
بند رہنے سے یہ دیوار بھی ہو سکتا ہے
یہ ضروری تو نہیں میرے عدو چال چلیں
اس میں مصروف مِرا یار بھی ہو سکتا ہے
رات دن رونقِ دنیا میں مگن رہنے سے
دل زمانے کا طرفدار بھی ہو سکتا ہے
سبحان خالد
No comments:
Post a Comment