Tuesday, 9 November 2021

خواب میں یار کا دیدار بھی ہو سکتا ہے

 خواب میں یار کا دیدار بھی ہو سکتا ہے

یعنی یہ ہجر ثمر بار بھی ہو سکتا ہے

مسکرانے میں قباحت نہیں پر دھیان رہے

آنکھ سے اشک نمودار بھی ہو سکتا ہے

مستقل عہدِ گزشتہ پہ نظر ٹھیک نہیں

اس طرح راستہ دشوار بھی ہو سکتا ہے

کھلتے رہنے سے ہی پہچان ہے دروازے کی

بند رہنے سے یہ دیوار بھی ہو سکتا ہے

یہ ضروری تو نہیں میرے عدو چال چلیں

اس میں مصروف مِرا یار بھی ہو سکتا ہے

رات دن رونقِ دنیا میں مگن رہنے سے

دل زمانے کا طرفدار بھی ہو سکتا ہے


سبحان خالد

No comments:

Post a Comment