Tuesday, 9 November 2021

ملیں گے چھاؤں ڈھونڈتے برہنہ پا خدا بہت

دھوپ ایسی تیز دھوپ گرم ہے فضا بہت

ملیں گے چھاؤں ڈھونڈتے برہنہ پا خدا بہت

یہ راہ بے کنار بے پناہ خضر کی فغاں

بہت ملی تھی زندگی مگر ملی ذرا بہت

خزاں نصیب دور میں بہار کی تسلیاں

مگر وہ دل جسے ہے خار و خس کا آسرا بہت

انہیں خبر کرو کہ شام ہجر آ رہی ہے پھر

جنہیں وفائے عہد پر غرور و ناز تھا بہت

فریب آرزو پہ اور اعتبار کے لیے

اٹھاؤ جام وقت کم ہے وقت ہو چکا بہت


نیاز حیدر

No comments:

Post a Comment