Tuesday, 9 November 2021

قصور اندھیرے کا یہ نہیں ہے ہمارے ذہنوں کی کھلبلی ہے

 قصور اندھیرے کا یہ نہیں ہے ہمارے ذہنوں کی کھلبلی ہے

سڑک پر رسی پڑی ہوئی ہے جو سانپ بن کر ڈرا رہی ہے

کسی سہارے کی آرزو نے شناوروں کو شکست دی ہے

 مہیب موجوں نے کیا بگاڑا، حقیر تنکوں نے جان لی ہے

کرن نے لُوٹا ہے اس کا زیور، ہوا نے اس کا لباس اُتارا

برہنہ ٹہنی بدست گُلچیں تمام انگوں سے کانپتی ہے

رسولِ تخیل ہر قدم پر سروشِ الفاظ کا ہے مرہوں

مگر جہاں سے یہ بڑھ گیا ہے وہیں ہر آواز جل گئی ہے

سیاہی نیم شب کی منت کہ روشنی سحر کو رشوت

جبینِ خورشید دن کی چوکھٹ پہ پاؤں ظلمت کے چومتی ہے

ظہیر کیا آج کہہ گیا ہے کہ لوگ ششدر کھڑے ہوئے ہیں

ہر ایک پتھر سرک گیا ہے، ہر ایک مُٹھی کھلی پڑی ہے


ظہیر صدیقی

No comments:

Post a Comment