Sunday, 14 November 2021

سب دیکھنے والے انہیں غش کھائے ہوئے ہیں

 سب دیکھنے والے انہیں غش کھائے ہوئے ہیں

اس پر بھی تعجب ہے وہ شرمائے ہوئے ہیں

اے جان جاں! ہم کو زمانے سے غرض کیا

جب کھو کے زمانے کو تجھے پائے ہوئے ہیں

حیران ہوں کیوں مجھ کو دکھائی نہیں دیتے

سنتا ہوں میری بزم میں وہ آئے ہوئے ہیں

نسبت کی یہ نسبت ہے، شرف کا یہ شرف ہے

تیرے ہیں اگر ہم تیرے ٹھکرائے ہوئے ہیں

ہے دیکھنے والوں کو سنبھلنے کا اشارہ

تھوڑی سی نقاب آج وہ سرکائے ہوئے ہیں


عذرا عادل رشید

No comments:

Post a Comment