گم تِرے پاس میں ہو جاؤں اندھیرا کر دے
زلف کا سایہ ذرا اور گھنیرا کر دے
ہو چکا ختم کھڑا پاؤں پہ ہونے کا چلن
ہو سکوں جس پہ کھڑا ہاتھ وہ میرا کر دے
میرا سایہ بھی بکھر جائے اجالا بن کر
مہرِ مصروفیت اک ایسا سویرا کر دے
زہر سے کھیلنا بھی سہل ہے فکرِ زر میں
پیسہ وہ شے ہے کہ انساں کو سپیرا کر دے
شام ہو جائے اگر جل گیا دن بھر سورج
رات بھر شمع جو جل جائے سویرا کر دے
خواب سے پہلے ہی تعبیر مِرے سامنے ہو
ایسا اے بدر! مجھے جاگنا میرا کر دے
بدر محمدی
No comments:
Post a Comment