انا
اب
کہ میں سچ جانتا ہوں
سچ
کہ جو جلتا ہوا ہے
ڈوب سکتا ہے سمندر میں
مگر بُجھتا نہیں ہے
سچ
کوئی جلتا سمندر
میں نے دیکھا
لوگ حیرت سے
مجھے تکنے لگے تھے
اور بولے
یہ تو ناممکن سی شے ہے
ہاں
مگر اب یہ ہے ممکن
یہ انا ہے
اس میں گہرائی ہے
وسعت ہے
کہ جس میں راز سارے
ڈوب جاتے ہیں دلوں کے
یہ ہی سچ ہے
سچ
کہ جس کو میں
گلے کا ہار کر کے جی رہا ہوں
تم بھی کر لو
یحییٰ خان یوسفزئی
No comments:
Post a Comment