Friday, 19 November 2021

میں سچ جانتا ہوں

انا


اب

کہ میں سچ جانتا ہوں

سچ

کہ جو جلتا ہوا ہے 

ڈوب سکتا ہے سمندر میں

مگر بُجھتا نہیں ہے

سچ

کوئی جلتا سمندر

میں نے دیکھا

لوگ حیرت سے

مجھے تکنے لگے تھے

اور بولے

یہ تو ناممکن سی شے ہے

ہاں

مگر اب یہ ہے ممکن

یہ انا ہے

اس میں گہرائی ہے

وسعت ہے

کہ جس میں راز سارے 

ڈوب جاتے ہیں دلوں کے

یہ ہی سچ ہے

سچ

کہ جس کو میں 

گلے کا ہار کر کے جی رہا ہوں

تم بھی کر لو 


یحییٰ خان یوسفزئی

No comments:

Post a Comment