نہیں کہ تنہا دلِ رائیگاں نے کھینچا ہے
ملالِ شب تو یہاں اک جہاں نے کھینچا ہے
یہ سانحہ بھی بڑے سانحوں میں شامل کر
مجھے زمیں کی طرف آسماں نے کھینچا ہے
کبھی ہم اس کو کبھی خود کو دستیاب نہ تھے
یہ دُہرا رنج دلِ نا تواں نے کھینچا ہے
بہارِ غم کو چمن میں قرار ہے، کہ بہت
شجر شجر اسے دورِ خزاں نے کھینچا ہے
یونہی نہیں ہوا ہے آئینے کو زعمِ جمال
تِرا خیال کسی خوش گماں نے کھینچا ہے
نرجس افروز زیدی
No comments:
Post a Comment