Monday, 15 November 2021

چھوڑ کر رونق بازار کوئی نعت کہو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


چھوڑ کر رونقِ بازار کوئی نعت کہو

ٹھیک ہو جاؤ گے بیمار! کوئی نعت کہو

مدتوں بعد مدینے میں نظر آئے ہو

مجھ سے کہنے لگے سرکارؐ کوئی نعت کہو

مال و دولت سے یہ اعزاز کہاں ملتا ہے

اے شفاعت کے طلبگار! کوئی نعت کہو

چاہتے ہو کہ اگر حاضری مقبول بھی ہو

مختصر اور لگا تار، کوئی نعت کہو

اس طرح گھر کی اداسی نہيں جانے والی

کہہ رہے تھے در و دیوار، کوئی نعت کہو

ورنہ آگے کا سفر اور بھی مشکل ہو گا

اے مِرے قافلہ سالار! کوئی نعت کہو

عمر بھر بیٹھ کے رونے سے کہیں بہتر ہے

مسکرا کر بھی عزادار، کوئی نعت کہو

نعت توفیق سے ہوتی ہے ریاضت سے نہيں

تم مِری مان کے اک بار، کوئی نعت کہو

ٹوٹ جائے نہ کہیں سانس کی ڈوری عامی

وقت سے پہلے مِرے یار! کوئی نعت کہو


عمران عامی

No comments:

Post a Comment