Thursday, 6 October 2022

ابھی محبت نئی نئی ہے

 ابھی محبت نئی نئی ہے


ہے ملنے کی آرزو بھی

سمجھنے کی جستجو بھی

ابھی خوابوں کے سلسلے کی

زنجیر ہے اک بنانی

خواب موتی

عذاب موتی

ستارے بھی ٹانکنے ہیں

چاند چہرے

شگفتہ لہجے

حیا آلود لالگی بھی

گالوں سے پُھوٹتی شفق بھی

ہیں آنکھوں میں چاند ڈوبے

اور گیسووں میں تیرگی بھی

ابھی دور ہے رتجگوں کا پھیرا

ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں بھی

دور ہیں شکوے شکایتیں بھی

ابھی بہت حسین ہے زندگانی

ابھی تو چہرے پہ تازگی ہے

ابھی محبت نئی نئی ہے


دشوار مرحلوں سے بھی گزرے

ہمت بندھاتا ہو ساتھ تیرا

رستہ بتاتا ہو نور تیرا

کڑا تو پھر کچھ نہیں ہے

ابھی محبت نئی نئی ہے


رابعہ خرم درانی

No comments:

Post a Comment