ابھی محبت نئی نئی ہے
ہے ملنے کی آرزو بھی
سمجھنے کی جستجو بھی
ابھی خوابوں کے سلسلے کی
زنجیر ہے اک بنانی
خواب موتی
عذاب موتی
ستارے بھی ٹانکنے ہیں
چاند چہرے
شگفتہ لہجے
حیا آلود لالگی بھی
گالوں سے پُھوٹتی شفق بھی
ہیں آنکھوں میں چاند ڈوبے
اور گیسووں میں تیرگی بھی
ابھی دور ہے رتجگوں کا پھیرا
ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں بھی
دور ہیں شکوے شکایتیں بھی
ابھی بہت حسین ہے زندگانی
ابھی تو چہرے پہ تازگی ہے
ابھی محبت نئی نئی ہے
دشوار مرحلوں سے بھی گزرے
ہمت بندھاتا ہو ساتھ تیرا
رستہ بتاتا ہو نور تیرا
کڑا تو پھر کچھ نہیں ہے
ابھی محبت نئی نئی ہے
رابعہ خرم درانی
No comments:
Post a Comment