Wednesday, 12 October 2022

کٹ چکے ہیں سب تعلق ایک ہی خنجر کے ساتھ

 کٹ چکے ہیں سب تعلق ایک ہی خنجر کے ساتھ

جسم کے ٹکڑے ملے ہیں خون کے منظر کے ساتھ 

رات دن کچھ اس لیے بھی اس کی صحبت میں کٹے

تھیں مِری ہمرازیاں کچھ میرے چارہ گر کے ساتھ 

میں خیالِ یار میں سجتی سنورتی رہ گئی

اور وہ کہ ڈھے گیا پندار کے محور کے ساتھ 

عہد و پیماں جس نے باندھے تھے جگر کے خون سے

راستے سے ہٹ گیا وہ اپنے کرّ و فر  کے ساتھ 

مبتلائے عشق تھا، سو ڈھونڈتا ہی رہ گیا

الفت و عشق و محبت درد کے ساگر کے ساتھ 

کھا گئیں مجبوریاں زہرہ جمالِ فن مِرا 

ورنہ میرے فن کی منزل تھی کہیں امبر کے ساتھ


زہرہ مغل

No comments:

Post a Comment