کٹ چکے ہیں سب تعلق ایک ہی خنجر کے ساتھ
جسم کے ٹکڑے ملے ہیں خون کے منظر کے ساتھ
رات دن کچھ اس لیے بھی اس کی صحبت میں کٹے
تھیں مِری ہمرازیاں کچھ میرے چارہ گر کے ساتھ
میں خیالِ یار میں سجتی سنورتی رہ گئی
اور وہ کہ ڈھے گیا پندار کے محور کے ساتھ
عہد و پیماں جس نے باندھے تھے جگر کے خون سے
راستے سے ہٹ گیا وہ اپنے کرّ و فر کے ساتھ
مبتلائے عشق تھا، سو ڈھونڈتا ہی رہ گیا
الفت و عشق و محبت درد کے ساگر کے ساتھ
کھا گئیں مجبوریاں زہرہ جمالِ فن مِرا
ورنہ میرے فن کی منزل تھی کہیں امبر کے ساتھ
زہرہ مغل
No comments:
Post a Comment