Wednesday, 5 October 2022

دل کا گلاب میں نے جسے چوم کر دیا

 دل کا گلاب میں نے جسے چوم کر دیا

اس نے مجھے بہار سے محروم کر دیا

اب پھول کیا کھلیں کہ جہاں پتیاں نہیں

موسم نے شاخ شاخ کو مسموم کر دیا

گھر بار چھوڑ کر وہ فقیروں سے جا ملے

چاہت نے بادشاہوں کو محکوم کر دیا

ان آنسوؤں سے دل کی تپش اور بڑھ گئی

بارش نے اور بھی مجھے مغموم کر دیا

یہ آرزو ہے اس پہ کوئی نعت لکھ سکوں

جس نے گناہ گار کو معصوم کر دیا

انجم جناب میر کا یہ فیض خاص ہے

ہم نے بھی اپنے درد کو منظوم کر دیا


انجم بارہ بنکوی

No comments:

Post a Comment