امیر ایسا کہ میری مثال ہے ہی نہیں
پرانی پگڑی میں تاروں کو ٹانک لیتا ہوں
بھرے جہان میں مجھ سا کوئی برا ہی نہیں
میں اپنی ذات میں ہر روز جھانک لیتا ہوں
یہ دشتِ عشق میں جب بھی بھٹکنے لگتے ہیں
میں اپنے پیروں کو جیسے بھی ہانک لیتا ہوں
تم اپنے آپ کو روشن کرو چراغوں سے
میں تیرے گھر سے اجالے کی پھانک لیتا ہوں
تمہارے لطف کے کرموں میں جو کمی آئے
میں اپنے جسم کے زخموں کو چھانک لیتا ہوں
مزمل رضوی
No comments:
Post a Comment