Tuesday, 11 November 2014

بن باس کی ایک شام

بن باس کی ایک شام

یہ آخری ساعت شام کی ہے
یہ شام جو ہے مہجوری کی
یہ شام اپنوں سے دوری کی
اس شام افق کے ہونٹوں پر
جو لالی ہے زہریلی ہے
اس شام نے میری آنکھوں سے
صہبائے طرب سب پی لی ہے
یہ شام غضب تنہائی کی
پت جھڑ کی ہوا برفیلی ہے
اس شام کی رنگت پیلی ہے
اس شام فقط آواز تری
کچھ ایسے سنائی دیتی ہے
آواز دکھائی دیتی ہے
یہ آخری ساعت شام کی ہے
یہ شام بھی تیرے نام کی ہے

احمد فراز

No comments:

Post a Comment