میں نے کب کی ہے تِرے کاکل و لب کی تعریف
میں نے کب لکھے قصیدے تِرے رخساروں کے
میں نے کب تیرے سراپا کی حکایات کہیں
میں نے کب شعر کہے جھومتے گلزاروں کے
جانے دو دن کی محبت میں یہ بہکے ہوئے لوگ
میں کہ شاعر تھا مِرے فن کی روایت تھی یہی
مجھ کو اک پھول نظر آئے تو گلزار کہوں
مسکراتی ہوئی ہر آنکھ کو قاتل جانوں
ہر نگاہِ غلط انداز کو تلوار کہوں
میری فطرت تھی کہ میں حسنِ بیاں کی خاطر
ہر حسیں لفظ کو درِ مدحِ رخِ یار کہوں
میرے دل میں بھی کھلے ہیں تِری چاہت کے کنول
ایسی چاہت کہ جو وحشی ہو تو کیا کیا نہ کرے
گر مجھے ہو بھی تو کیا زعمِ طوافِ شعلہ
تُو ہے وہ شمع کہ پتھر کی بھی پروا نہ کرے
میں نہیں کہتا کہ تجھ سا ہے نہ مجھ سا کوئی
ورنہ شوریدگئ شوق تو دیوانہ کرے
کیا یہ کم ہے کہ تِرے حسن کی رعنائی سے
میں نے وہ شمعیں جلائی ہیں کہ مہتاب نثار
تیرے پیمانِ وفا سے مِرے فن نے سیکھی
وہ دلآویز صداقت کہ کئی خواب نثار
تیرے غم نے مِرے وجدان کو بخشی وہ کسک
مِرے دشمن، مِرے قاتل، مِرے احباب نثار
میں کسی غم میں بھی رویا ہوں تو میں نے دیکھا
تیرے دکھ سے کوئی مجروح نہیں تیرے سوا
میرے پیکر میں تِری ذات گھلی ہے اتنی
کہ مِرا جسم مِری روح نہیں تیرے سوا
میرا موضوعِ سخن تُو ہو کہ ساری دنیا
درحقیقت کوئی ممدوح نہیں تیرے سوا
احمد فراز
No comments:
Post a Comment