Tuesday, 11 November 2014

یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم

یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم
چارہ گر روئیں گے اور غمخوار بن جائیں گے ہم
ہم سرِ چاکِ وفا ہیں اور تیرا دستِ ہنر
جو بنا دے گا ہمیں اے یار! بن جائیں گے ہم
کیا خبر تھی اے نگارِ شعر! تیرے عشق میں
دلبرانِ شہر کے دلدار بن جائیں گے ہم
سخت جاں ہیں پر ہماری استواری پر نہ جا
ایسے ٹوٹیں گے تیرا اقرار بن جائیں گے ہم
اور کچھ دن بیٹھنے دو کوئے جاں میں ہمیں
رفتہ رفتہ سایۂ دیوار بن جائیں گے ہم
اس قدر آساں نہ ہو گی ہر کسی سے دوستی
آشنائی میں تیرا معیار بن جائیں گے ہم
میرؔ و غالبؔ کیا کہ بن پائے نہیں فیضؔ و فراقؔ
زعم یہ تھا رومیؔ و اوتار بن جائیں گے ہم
دیکھنے میں شاخِ گل لگتے ہیں لیکن دیکھنا
دستِ گلچیں کے لئے تلوار بن جائیں گے ہم
ہم چراغوں کو تو تاریکی سے لڑنا ہے فرازؔ
گل ہوئے پر صبح کے آثار بن جائیں گے ہم

احمد فراز

No comments:

Post a Comment