بات شناسائی کی
کب آنکھ میں نیند اتر آئے
اور وصل کا خواب نہیں ہوتا
کب ہم بیدار نہیں ہوتے
اور ہجر عذاب نہیں ہوتا
کب تیری یاد نہیں آتی
کب دل بے تاب نہیں ہوتا
کب تیری دید کی خواہش سے
پاگل یہ نین نہیں ہوتے
کب ہم بے چین نہیں ہوتے
بس ہم سے بین نہیں ہوتے
اور وصل کا خواب نہیں ہوتا
کب ہم بیدار نہیں ہوتے
اور ہجر عذاب نہیں ہوتا
کب تیری یاد نہیں آتی
کب دل بے تاب نہیں ہوتا
کب تیری دید کی خواہش سے
پاگل یہ نین نہیں ہوتے
کب ہم بے چین نہیں ہوتے
بس ہم سے بین نہیں ہوتے
راشد مراد
No comments:
Post a Comment