Sunday, 6 November 2016

بات شناسائی کی

بات شناسائی کی

کب آنکھ میں نیند اتر آئے
اور وصل کا خواب نہیں ہوتا
کب ہم بیدار نہیں ہوتے
اور ہجر عذاب نہیں ہوتا
کب تیری یاد نہیں آتی
کب دل بے تاب نہیں ہوتا
کب تیری دید کی خواہش سے
پاگل یہ نین نہیں ہوتے
کب ہم بے چین نہیں ہوتے
بس ہم سے بین نہیں ہوتے

راشد مراد

No comments:

Post a Comment