Thursday, 6 May 2021

مدتوں ہم سے ملاقات نہیں کرتے ہیں

 مدتوں ہم سے ملاقات نہیں کرتے ہیں

اب تو سائے بھی کوئی بات نہیں کرتے ہیں

دشت حیراں کا پتہ آج بھی معلوم نہیں

اب تو راہوں میں بھی ہم رات نہیں کرتے ہیں

معبدوں میں جو جلاتے تھے دیے میرے لیے

اب سر شام مناجات نہیں کرتے ہیں

بانٹ دیتے ہیں سبھی خواب سہانے اپنے

دامن درد سے خیرات نہیں کرتے ہیں

روک لیتے تھے جو جنگل میں وہ آسیب بھی اب

چپ ہی رہتے ہیں سوالات نہیں کرتے ہیں

وہ جو برسے تھے عنایات کے بادل ہم پر

وہ بھی اب پہلی سی برسات نہیں کرتے ہیں

کتنے برہم تھے فرح ٹوٹ کے جب بکھرے تھے

آج کل ہم بھی شکایات نہیں کرتے ہیں


فرح اقبال

No comments:

Post a Comment