جب کبھی وہ کٹھور ہوتا ہے
دل کا عالم ہی اور ہوتا ہے
روکتی کیسے پیار کرنے سے
دل پہ کب اپنا زور ہوتا ہے
جب محبت کا تیر چلتا ہے
پھر کہاں غور وور ہوتا ہے
دوسروں سے وہی چرائے نظر
دل میں خود جس کے چور ہوتا ہے
آخری سانس کی خموشی میں
زندگی بھر کا شور ہوتا ہے
خوف آتا ہے اپنی آہٹ سے
موت کا ڈر ہی اور ہوتا ہے
شعر کہتی ہے یاس جس کے لیے
شاعری سے وہ بور ہوتا ہے
یاسمین یاس
No comments:
Post a Comment