Thursday, 6 May 2021

جب کبھی وہ کٹھور ہوتا ہے

جب کبھی وہ کٹھور ہوتا ہے

دل کا عالم ہی اور ہوتا ہے

روکتی کیسے پیار کرنے سے

دل پہ کب اپنا زور ہوتا ہے

جب محبت کا تیر چلتا ہے

پھر کہاں غور وور ہوتا ہے

دوسروں سے وہی چرائے نظر

دل میں خود جس کے چور ہوتا ہے

آخری سانس کی خموشی میں

زندگی بھر کا شور ہوتا ہے

خوف آتا ہے اپنی آہٹ سے

موت کا ڈر ہی اور ہوتا ہے

شعر کہتی ہے یاس جس کے لیے

شاعری سے وہ بور ہوتا ہے


یاسمین یاس

No comments:

Post a Comment