اپنا بیمار ہے دل، عشق کا بیمار نہیں
خود تشفی کے سوا ہجر کا آزار نہیں
تیرگی ایسی غضب کی کہ عیاذاً باللہ
ایسا لگتا ہے کہ گھر ہے در و دیوار نہیں
جس کی چوکھٹ پہ بھی رُکتا ہوں یہی لگتا ہے
یہ درِ یار نہیں، یہ بھی درِ یار نہیں
نیکیوں کے لیے ماحول موافق بھی تو ہو
کون کہتا ہے کہ میرا کوئی کردار نہیں
نشتر خانقاہی
No comments:
Post a Comment