حقیقت رہی نا فسانہ رہا
سنانے کا اب کیا بہانہ رہا
بھُلا بیٹھا جو یہ زمانہ تجھے
وہی یاد تجھ کو زمانہ رہا
بڑا ظرف ہے سننے والوں میں اب
مِرا حرف بھی شاخسانہ رہا
سنا دی مجھے اس نے میری غزل
تعارف مِرا غائبانہ رہا
بڑی دُور ہے اپنی یہ منزل
سفر بھی کیا جاوِدانہ رہا
تھی عادت بہت بھُولنے کی اتاش
مِرا دل بھی تصویر خانہ رہا
ذیشان اتاش
No comments:
Post a Comment